نئی دہلی،18/اپریل(ایس او نیوز/ایجنسی)کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ ملک کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں، لیکن انھوں نے اشارہ دیا کہ نظریات اور دیگر نااتفاقیوں کے باوجود ملک میں جمہوریت پر لگاتار بڑھتے خطرے اور مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال کے سبب اپوزیشن پارٹیاں متحد ہو رہی ہیں۔ سبھی پارٹیوں کو ایک مشترکہ پروگرام کے تحت ایک ساتھ لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ باتیں کھرگے نے انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے آئیڈیا ایکسچینج پروگرام میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہیں۔
ایک سوال کے جواب میں کھرگے نے کہا کہ بزنس مین ڈرے ہوئے ہیں۔ لوگ کانگریس کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم ڈرے ہوئے نہیں ہیں اور ہم جمہوریت اور لوگوں کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ سیاسی لیڈروں پر منڈلاتے خطرے کے بارے میں کھرگے نے انکشاف کیا کہ انھوں نے جب پارلیمنٹ میں حکومت کی تنقید کی تو انھیں نجی طور پر دبئی، کناڈا اور گجرات سے دھمکیاں دی گئیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے دہلی اور بنگلورو سمیت تین مقامات پر ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ ساتھ ہی مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کو بھی خط لکھا ہے، لیکن اس بارے میں کوئی جانچ نہیں ہوئی ہے۔ پولیس ان کا فون لینا نہیں چاہتی تھی۔ پانچ سال ہو گئے، اس بارے میں ابھی تک کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
بی جے پی نے مدھیہ پردیش، کرناٹک، مہاراشٹر، منی پور اور گوا سمیت کم از کم پانچ ریاستوں میں مینڈیٹ کو اغوا کیا ہے۔ جمہوریت، مرکزی ایجنسیوں کے غلط استعمال اور تاناشاہی کے خلاف اپوزیشن متحد ہے۔ پارلیمنٹ میں مشترکہ پالیسی میں عام آدمی پارٹی تک شامل ہے۔اس سوال پر کہ بڑی تعداد میں کانگریس لیڈرس پارٹی چھوڑ رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ جو لوگ 10 کلومیٹر بھی نہیں چل سکتے، وہی چھوڑ رہے ہیں۔ جبکہ جو لوگ 4000 کلومیٹر چلے ہیں یا چل سکتے ہیں، وہ سب کانگریس کے ساتھ واپس آ رہے ہیں۔ کانگریس کیا ایک کنبہ کے ذریعہ چلائی جانے والی پارٹی ہے؟ اس سوال کے جواب میں کانگریس صدر نے کہا کہ مبینہ کنبہ کے کسی بھی رکن نے گزشتہ 35 سال میں کانگریس کی قیادت والی کسی حکومت میں کوئی عہدہ نہیں لیا۔ انھوں نے پارٹی اور لوگوں کیلئے کام کیا اور اپنی زندگی کی قربانی دی ہے۔پارٹی میں اندرونی جمہوریت کے بارے میں کھرگے نے اندرا گاندھی کے خلاف کرناٹک کے چکمگلور سے انتخاب لڑنے والے ویریندر پاٹل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاٹل انتخاب ہار گئے تھے، لیکن پھر بھی اندرا گاندھی نے انھیں وزیر، ریاستی صدر اور یہاں تک کہ ریاست کا وزیر اعلیٰ تک بنایا تھا۔